🕌پگڑی کہی (عمامہ) باندھنے میں ٹوپی کے دکھائی دینے یا نہ دینے سے متعلق احادیث اور فقہی بحث 👳♂️
پگڑی (عمامہ) باندھنے کا طریقہ اور اس میں ٹوپی (قلنسوہ) کا معاملہ ایک اہم فقہی اور سنت سے متعلق بحث ہے۔ یہ بحث بنیادی طور پر پیغمبر اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عمل کو سمجھنے اور نقل کرنے کے مختلف طریقوں پر منحصر ہے۔ اس بارے میں تمام ائمہ اور علماء کا اتفاق ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے عام طور پر ٹوپی پہن کر اس کے اوپر پگڑی باندھی تھی۔ عربی میں اسے "الإِمَامَةُ عَلَى الْقَلَنْسُوَةِ" کہا جاتا ہے۔
📜 احادیث کی روشنی میں عمامہ باندھنے کے طریقے
احادیث کی روشنی میں، سنت میں دونوں طرح کے طریقے ملتے ہیں۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ پگڑی ٹوپی کو مکمل طور پر چھپا لے، جیسا کہ اکثر احادیث اور فقہاء کی رائے سے ظاہر ہوتا ہے۔ پگڑی کا مقصد سر کو مکمل ڈھانپنا اور ٹوپی کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق، صحابہ کرام پگڑی اس طرح باندھتے تھے کہ ٹوپی مکمل طور پر چھپ جاتی تھی۔ اس طریقے میں پگڑی کا ایک حصہ ٹوپی کے اوپر سے شروع ہو کر باقی حصہ سر کے ارد گرد لپیٹا جاتا تھا۔
دوسری طرف، کچھ روایات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پگڑی کا کنارہ یا ٹوپی کا کوئی حصہ دکھائی دے سکتا تھا۔ مثال کے طور پر، پگڑی کا رنگ کالا اور ٹوپی کا سفید ہونے کی روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر پگڑی مکمل طور پر نہ پھیلی ہو تو ٹوپی کا اوپری حصہ دکھائی دے سکتا ہے۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پگڑی کا ایک حصہ پیچھے کی طرف لٹکاتے تھے جسے "سدل" یا "عذبہ" کہتے ہیں، اور اس سے باندھنے کے انداز مختلف ہو سکتے ہیں۔فقہی نقطہ نظر سے اس معاملے میں سختی نہیں ہے۔ بہترین طریقہ وہ ہے جس میں پگڑی ٹوپی کو مکمل طور پر ڈھانپ لے، کیونکہ یہ سنت پر مکمل عمل کرنے کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اگرچہ، اگر ٹوپی کا کوئی حصہ دکھائی دے تو بھی وہ جائز ہے، کیونکہ بنیادی مقصد ٹوپی پر پگڑی باندھنا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹوپی کا دکھائی دینا یا نہ دکھائی دینا باندھنے والے کے انداز پر منحصر ہے اور اس میں کوئی شرعی ناپسندیدگی نہیں ہے۔
👳♂️ مختلف طبقات میں پگڑی باندھنے کے طریقے
مختلف طبقات میں پگڑی باندھنے کا طریقہ زیادہ تر آداب اور مشائخ کی پیروی سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ شریعت کے کسی سخت حکم سے۔
- نقشبندی مشائخ کا طریقہ کار: نقشبندی سلسلے میں، خاص طور پر حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی کے پیروکاروں میں، ٹوپی کا باہر رہنا عام ہے۔ نقشبندی قلنسوہ (تاج) اونچی ہوتی ہے اور پگڑی باندھتے وقت اس کی نوک باہر دکھائی دیتی ہے۔ یہ مشائخ کا تاریخی عمل اور ان کی خاص پہچان ہے۔
- اشرفی مشائخ کا طریقہ کار: اشرفی پگڑی، جو مزارات اور خانقاہوں میں رائج ہے، نسبتاً اونچی ہوتی ہے اور ٹوپی کا اوپری حصہ واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یہ طریقہ سر کی اونچائی اور بڑے سلف کی پیروی کو ظاہر کرتا ہے۔
- مولوی (مولانا رومی کے سلسلے) مشائخ کا طریقہ کار: مولوی سلسلہ (مولوی طریقہ)، جو حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے، ان کے مشائخ اور درویشوں میں بھی ٹوپی کا اوپری حصہ دکھائی دیتا ہے۔ مولویوں کی خصوصی اونچی ٹوپی (سکہ یا تاجِ مولوی) پر پگڑی باندھی جاتی ہے، جس میں ٹوپی کی نوک یا حصہ واضح طور پر باہر رہتا ہے۔ یہ ان کی خاص پہچان اور سلسلے کی روایت ہے۔
- مفتی سلمان ازہری صاحب کی پگڑی کا طریقہ: مفتی سلمان ازہری صاحب کا تعلق بریلوی مسلک کی ایک جانی پہچانی روایت سے ہے۔ ان کی پگڑی اس مسلک کے مشائخ کے رائج طریقے سے مطابقت رکھتی ہے۔ ٹوپی کو باہر چھوڑنے کی وجہ مشائخ کی تقلید ہے، جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ۔ یہ سلسلۂ طریقت کا ایک نشان ہے اور عربی طریقے سے کچھ مختلف، زیادہ ہندوستانی خانقاہی انداز ہے۔
- دعوتِ اسلامی کا نقطہ نظر: دعوتِ اسلامی پگڑی میں ٹوپی کو مکمل چھپانے کی تاکید کرتی ہے، جو سنت کے بہترین طریقے کے قریب ہے۔ وجوہات میں سنت کی تکمیل، عربی روایات پر عمل، زینت کو برقرار رکھنا اور فقہاء کا رجحان شامل ہیں۔ وہ عربی طریقے کو ترجیح دیتے ہیں جو سر کو مکمل ڈھانپتا ہے۔ اگرچہ، دعوتِ اسلامی کے مبلغین کو ہر مسلمان کو مکمل ڈھکی ہوئی عمامہ پہننے کے لیے اصرار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جس طرح وہ اپنے شیخ کی پیروی کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی اپنے مشائخ کی پیروی کرتے ہیں (اور دونوں طریقے جائز ہیں)۔
| پہلو | ٹوپی مکمل چھپی ہو (بہترین) | ٹوپی باہر دکھائی دے (جائز) |
|---|---|---|
| وجہ | احادیث میں پگڑی کا پورا لپیٹا جانا؛ زیادہ زینت؛ کمالِ سنت | اصل سنت (ٹوپی پر پگڑی) پر عمل؛ اکابرین کی تقلید |
| فقہی حکم | مستحب اور بہترین (افضل) | جائز اور مباح |
| مثالیں | دعوتِ اسلامی کا موقف؛ عرب علماء | مفتی سلمان ازہری، نقشبندی، اشرفی، مولوی مشائخ |
نتیجہ: نتیجہ یہ ہے کہ دونوں طریقے جائز ہیں اور بنیادی سنت کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ باندھنے کے انداز اور بہترین ہونے کے انتخاب کا معاملہ ہے۔ آپ اپنی پسند، علاقے کی رسم، یا شیخ کی روایت کے مطابق عمل کر سکتے ہیں، بشرطیکہ ٹوپی پر پگڑی موجود ہو۔ اگر کسی خاص حدیث کے متن یا تصاویر کی ضرورت ہو تو مزید مدد کی جا سکتی ہیں
اس ضمن میں دعوتِ اسلامی کے دارالافتاء کا فتویٰ بھی شامل ہے، تاکہ دعوتِ اسلامی کے جلد باز کارکن بھی بات کو سمجھ سکیں اور دیگر مشائخ کی روایات کا احترام کریں۔


0 ટિપ્પણીઓ